32

مون سون بارشوں نے تباہی مچادی

ملک میں طوفانی بارشوں سے اموات کی تعداد 80 ہوگئی، بارشوں نے بلوچستان میں سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے جہاں 16خواتین اور13بچوں سمیت 45 افراد ریلوں اور مکانات گرنے سے ہلاک ہوئے۔‌ تیز بارشوں کے سبب کاکڑ خراسان میں ڈیم ٹوٹ گیا، دکی ڈیم میں دراڑ پڑ گئی،کھنی بواٹہ ڈیم اوور فلو کر گیا، آبادی کو بچانےکی کوششیں جاری ہیں۔دوسری جانب ہرنائی میں پہاڑوں سے آنے والا ریلا شہر میں داخل ہوگیا ہے، سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

کوہلو میں رات گئے موسلادھار بارش سے کچے مکانات گر گئے، ماوند میں سوناری کے مقام پر ریلے میں پل بہہ گیا، کوہلو کا کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ غذر میں آسمانی بجلی گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، رحیم یار خان میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے، گلی محلے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں