مشکل فیصلے وہ حکومت کرے جس کے پاس پانچ سال کا مینڈیٹ ہو، مصطفی نواز 18

مشکل فیصلے وہ حکومت کرے جس کے پاس پانچ سال کا مینڈیٹ ہو، مصطفی نواز

سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ مشکل فیصلے وہ حکومت کرے جس کے پاس پانچ سال کا مینڈیٹ ہو۔

اپنے جاری کردہ بیان میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پہلے دن سے ہی موقف تھا کہ حکومت کرنے کی بجائے فوراً الیکشن کرا دینے چاہئے۔

سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ضمنی الیکشنز سے واضح ہو گیا کہ اتحادی حکومت عوام کی تائید کھو چکی ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف سے ڈیل ایک فریش مینڈیٹ کے ساتھ آنے والی حکومت کو ہی کرنی چاہئے، مشکل فیصلے وہ حکومت کرے جس کے پاس پانچ سال کا مینڈیٹ ہو۔

سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہو نہیں سکتا کہ مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہو اور عوام ہمارے گلوں میں پھولوں کے ہار ڈالیں ، سیاسی جماعتیں ابھی تک ذہنی طور پر نوے کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبادی میں نوجوانوں کا تناسب، کرپشن گا تدارک، اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ دور حاضر کی سیاست کے لازمی جزو ہیں، کل کے نتائج کے بعد سیاسی استحکام میں مزید کمی آئے گی اور حکومت کرنا مشکل ہوتا چلا جائے گا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک اور معیشت کو استحکام کی ضرورت ہے جو صرف جنرل الیکشنز کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں