محبت میں دریا بھی پار، بنگلہ دیشی لڑکی تیر کر بھارت پہنچ گئی 68

محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی بنگالی لڑکی نے ثابت کر دیا

کون کہتا ہے کہ محبت کا وجود باقی نہیں رہا ۔؟ یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کو موت کے منہ میں ہاتھ ڈالنے اور دریا پار کرنے پر بھی مجبور کر دیتا ہے۔ جی ہاں ۔ کچھ ایسا ہی ہوا ہے بنگلہ دیش کی ایک 22 سالہ لڑکی کرشنا کے ساتھ جو اپنے بوائے فرینڈ سے شادی کرنے کے لیے بنگال ٹائیگرز اور خونخوار درندوں سے بھرے جنگل اور پھر دریا کو عبور کرکے بھارت پہنچ گئی۔بھارتی خبر کے مطابق بہادر بنگلہ دیشی لڑکی کرشنا کو اپنے بوائے فرینڈ سے شادی کرنے کے لیے سندربن کے خطرناک جنگلات عبور کرکے ایک گھنٹے تیراکی بھی کرنا پڑی۔
کرشنا کی بھارتی لڑکے ابھیک منڈل سے فیس بک پر دوستی ہوئی تھی جس کے بعد دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ چونکہ کرشنا کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا اس لیے اُس نے غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے کا فیصلہ کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق بنگلہ دیشی لڑکی کرشنا کو پہلے سندربن کے جنگلات سے گزرنا پڑا جو کہ بنگال ٹائیگر اور دوسرے خطرناک درندوں کے لیے مشہور انتہائی پُر خطر جنگل ہے جس کے بعد اُس نے ایک گھنٹہ تیر کر دریا کو پار کیا۔
خبر کے مطابق تین دن قبل کرشنا کی ابھیک منڈل سے کولکتہ کے کالی گھاٹ مندر میں شادی ہو گئی تھی تاہم پیر کے روز اُسے غیرقانونی طریقے سے بھارت میں داخل ہونے پر گرفتار کر لیا گیا۔اخبار نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کرشنا منڈل کو ڈھاکا میں بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں