علی ظفر کیخلاف سوشل میڈیا مہم چلانے کا مقدمہ، میشا شفیع کی عدالت میں طلبی 39

علی ظفر کیخلاف سوشل میڈیا مہم چلانے کا مقدمہ، میشا شفیع کی عدالت میں طلبی

معروف گلوکارعلی ظفرکے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے کے مقدمے میں عدالت نے میشا شفیع کو 11 جون کو طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق ضلع کچہری لاہورمیں علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے کے مقدمے سے متعلق سماعت ہوئی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے میشاء شفیع کی طلبی کے ساتھ ساتھ شریک ملزمہ ماہم جاوید کو بھی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے عدم پیشی پرملزمہ حمنہ رضا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے شریک ملزمان عفت عمر، علی گل پیر، فریحہ ایوب، فیضان رضا کی حاضری معافی کی درخواستیں منظور کر لیں۔

ملزمہ لینا غنی اور شریک ملزم حسیم الزمان نے عدالت میں حاضری مکمل کروائی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ لاہورغلام مرتضی ورک نے میشاء شفیع و دیگر کیخلاف سائبر کرائم کیس کا تحریری حکم جاری کیا۔

ایف آئی اے نے علی ظفر کی مدعیت میں میشا شفیع سمیت 8 ملزمان کے خلاف چالان پیش کررکھا ہے۔

مقدمہ میں ماہم جاوید، عفت عمر، فیضان رضا، حسیم الزمان، فریحہ ایوب، علی گل پیر اور لینا غنی بھی نامزد ملزم ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق میشا شفیع سمیت دیگر ملزمان نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کی مہم چلائی۔ ملزمان اپنی صفائی میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکے۔

وکیل علی ظہر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پر مہم چلا کر گلوکارعلی ظفر کی کردار کشی کی۔ عدالت سے استدعا ہے کہ میشا شفیع، عفت عمر، لینا غنی سمیت تمام ملزموں کیخلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔

گذشتہ روزلاہور ہائی کورٹ میں میشا شفیع کی ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل کورٹ میں بیان دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔ جسٹس صفدر سلیم نے میشا شفیع کی درخواست پر سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا۔

میشا شفیع نے ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل کورٹ میں بیان دینے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ کینیڈا میں مقیم ہوں، ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں بیان دینا چاہتی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں