عدالت عالیہ پولیس افسران سے نالاں کیوں؟

1
104

لاہور: ( ہاٹ لائن نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔

جسٹس مس عالیہ نیلم کے حکم پر سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی انوسٹیگیشن سمیت دیگر افسران پیش ہوئے ۔

جسٹس مس عالیہ نیلم نے سی سی پی او لاہور سمیت دیگر افسران پر اظہار برہمی کیا ۔

سی سی پی او لاہور نے عدالت کو بتایا کہ ناقص تفتیش کرنے والے تفتیشی افسر اور ڈی ایس پی کے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کردی ہے ، عدالت نے ناقص تفتیش کرنے والے تفتیشی افسران کے خلاف کاروائی سے متعلق سی سی پی او کو رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیدیا

جسٹس مس عالیہ نیلم نے کہا کہ سی سی پی او صاحب یہاں سارے معاملات خراب ہورہے ہیں ، کریمنل سسٹم آپ کے ضلع میں خراب ہوگیا ہے ، سی سی پی او لاہور نے کہا کہ ہم نے 4لاکھ مقدمات نمٹائے ہیں ، اتنی بڑی تعداد میں کیسز کو نمٹانے میں کچھ کیسز میں کوالٹی بہتر نہیں ہوئی ۔

جسٹس مس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ آپ اعتراف کررہے ہیں یہ فوجداری قانون میں کہاں لکھا ہے کہ آپ نے کوالٹی پر سمجھوتا کرنا ہے؟

سی سی پی او لاہور نے کہا کہ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا ، عدالت نے کہا کہ لاہور پولیس کی درج کی گئی ایف آئی آر سامنے آرہی ہیں اس کی سمجھ نہیں اتی ،کریمنل لا کا مذاق بنا دیا گیا ۔

سی سی پی او لاہور نے کہا کہ ہم چیزوں کو بہتر کررہے ہیں ، تفتیشی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ کیا غلط تفتیشی کرنے والے افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم کردیں؟

سی سی پی او لاہور نے کہا کہ آئندہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔

جسٹس مس عالیہ نیلم نے کہا کہ آئندہ کو چھوڑیں پیچھے سےشروع کریں کہ کون ذمہ دار ہے ؟

عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر اور کمپیوٹر آپریٹر کی تعلیم کتنی ہے ؟ اتنے بڑے کیسز کی تفتیش کرنیوالے افسران کی تعلیم کتنی ہے؟

ڈی آئی جی انوسٹیگیشن کا کہنا تھا کہ ہم محکمانہ امتحانات لیتے ہیں ، جس پر عدالت نے کہا کہ محکمانہ امتحانات تو مل ملا کر پاس کر لیتے ہیں ۔

سی سی پی او لاہور نے عدالت کو بتایا کہ اب گریجویٹ تفتیشی افسران تفتیش کررہے ہیں

1 comment

Leave a reply