41

عثمان بزدار کا عہدہ چھوڑنے سے قبل سیکریٹریٹ میں آدھی رات کو کیا کچھ ہوتا رہا ؟ کمپیوٹرز سے کیا کچھ ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے ؟

اسلام آباد (ہاٹ لائن نیوز )وزیراعلیٰ عثمان بزدار عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں جس کے بعد آدھی رات کو ان کے اہم افسران کی نگرانی میں’ آپریشن‘ کیا گیا جس دوران چیف منسٹر سیکریٹریٹ میں تمام ایڈیشنل سیکریٹریز کے کمپیوٹرز سے ڈیٹا صاف کر دیا گیا ۔ مقامی انگریزی اخبار ” دی نیوز “ کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹریز کے کمپیوٹرز میں سے جو ڈیٹا ڈیلیٹ کیا گیاہے اس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جاری کر دہ احکامات اور چیف منسٹر صوابدیدی فنڈنز کاریکارڈ شامل ہے ،جس کا حجم کروڑوں روپے تھا ۔” آپریشن مڈنائٹ “ کے دوارن کمپیوٹر ٹیکنیشن وزیراعلیٰ کی اعلیٰ بیورکریٹک معاونین کے ہمراہ تھے ، جو کہ مختلف کمروں گئے اور ڈپٹی سیکریٹریز کے کمپیوٹرز سے ڈیٹا صا ف کر دیا ۔ اسی دوران یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پرنسپل سیکریٹری کے پاس مزید دو اور اضافی چارج تھے ، ایک پرنسپل سیکریٹری کا ، دوسرا توانائی کے ایڈینشل چیف سیکریٹری اور انرجی سیکریٹری کا عہدہ شامل ہے ۔صوبائی انتظامی معاملات کے حوالے سے یہ عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری کو اہم ترین مشیر اور وزیراعلیٰ کا چیف آف سٹاف سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کی طرف سے احکامات جاری کر سکیں۔ وہ وزیراعلیٰ کی طرف سے تمام فائلوں اور سمریوں پر احکامات اور ہدایات صادر فرماتے ہیں۔سینئر افسران کو یکے بعد دیگر تبدیل کرنے کے حوالے سے شہرت کے حامل عثمان بزدار نے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں عامر جان کو اپنا پانچواں پرنسپل سیکرٹری مقرر کیا تھا۔عامر جان سے قبل یہ عہدہ ڈاکٹر راحیل صدیقی، ڈاکٹر شعیب اکبر، افتخار ساہو اور طاہر خورشید کے پاس رہ چکا ہے۔ عامر جان کو بزدار نے تقریباً ایک سال کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (اے سی ایس) انرجی اور سیکریٹری انرجی کا چارج مقرر کیا ہے جبکہ وہ پرنسپل سیکریٹری کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ایک اور متضاد صورتحال یہ بھی ہے کہ عامر جان نے بطور ایڈیشنل چیف سیکریٹری انرجی اور بحیثیت سیکرٹری انرجی اپنی فائلیں اور سمری وزیر اعلیٰ کے احکامات کے حصول کیلئے خود کو ہی جمع کرائیں کیونکہ وہ پرنسپل سیکریٹری بھی ہیں۔ ان سمریوں اور فائلوں پر عامر جان نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری انرجی اور بحیثیت سیکرٹری انرجی کی حیثیت سے خود ہی دستخط کیے ہیں۔عامر جان سیکرٹری توانائی کی حیثیت سے 8 سے زیادہ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی متعدد کمیٹیوں میں بھی کام کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں