52

صومالیہ، حسن شیخ محمد ملک کے نئے صدر منتخب ہو گئے

صومالیہ میں گزشتہ روز نئے صدر کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ حسن شیخ محمد دوسری مرتبہ اقتدار میں آئے ہیں۔ پانچ برس قبل وہ دوسری مدت کے لیے ہونے والے انتخابات میں ناکام ہو گئے تھے۔

سابق صدر محمد عبداللہ اور وزیراعظم محمد حسین روبیل کے درمیان اقتدار کی پرتشدد کشمکش کی وجہ سے صدارتی انتخابات 15 ماہ سے بھی زیادہ تاخیر کا شکار ہوئے۔

ان صدارتی انتخابات میں تین راؤنڈز کی ووٹنگ کے بعد رن آف میں حسن شیخ محمد نے موجودہ صدر محمد عبداللہ محمد کو 110 کے مقابلے میں 214 ووٹوں سے شکست دی۔

نئے صدر کا انتخاب کرنے والے ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹ قبیلے کے سربراہان کے مقررکردہ مندوبین کے ذریعے منتخب کیے گئے تھے۔ اس سے پیشتر صدر کا انتخاب عالمی اصولوں کے تحت براہ راست صومالی عوام کے ذریعے کیا جانا تھا تاہم سیاستدانوں نے یہ منصوبہ ترک کر دیا۔

ایوان زیریں کے اسپیکر شیخ عدن محمد نور نے صدارتی انتخابات میں حسن شیخ محمد کی بطور نئے صدر کامیابی کا اعلان کیا جس کے بعد محمد عبداللہ نے شکست تسلیم کر لی اور حسن شیخ محمد نے حلف اٹھایا۔

خیال رہے کہ 15 مئی کو بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ہدایت پر ووٹنگ کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جو اس نے اپنے 40 کروڑ ڈالر کے امدادی پروگرام سے مشروط کی تھی۔

نئے صدر حسن شیخ محمد نیا وزیراعظم چُنیں گے تاہم انہیں ایک ایسے وقت حکومت ملی ہے جب ملک بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ باغیوں اور خود ملکی افواج کے اندر مختلف قبیلوں اور حریفوں کی کشمکش کے سبب حکومت کو ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری لانے میں بھی مشکلات کا سامنا رہے گا۔

حالیہ مہینوں میں شدت پسند تنظیم الشباب کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ الشباب کے القاعدہ کے ساتھ بھی تعلقات ہیں جس نے کئی نئے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔

واضح رہے کہ افریقی خطے کو خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ چار دہائیوں کی بدترین خشک سالی کا بھی سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں