70

شہبازشریف اورحمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں فردِ جرم مؤخر

شہبازشریف اورحمزہ شہبازکیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے وکلاء کو بحث اور ملزمان کو فردِ جرم کے لیے 21 مئی کو طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اسپیشل کورٹ سنٹرل لاہورمیں شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔

کمرہ عدالت میں وزیراعظم شہبازشریف کے علاوہ دیگر ملزمان نے حاضری مکمل کی۔
ایڈووکیٹ امجد پرویزنےعدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا کہ شہبازشریف پہلے بھی علاج کیلئے بیرون ملک جاتے رہے ہیں۔ ان کا نام ای سی ایل سے نکلنے کے باوجود سابقہ حکومت نے چیک اپ کیلئے بیرون ملک جانے نہیں دیا تھا۔

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ شہباز شریف کو کمر درد اور دیگر بیماریاں ہیں جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بھی ہے۔ آج تو پھر کارروائی اس وجہ سے آگے نہیں بڑھ رہی کہ شہباز شریف پیش نہیں ہوئے۔

امجد پرویزایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ شہباز شریف کی وجہ سے ایک بھی پیشی ملتوی نہیں کی گئی۔ شہباز شریف اپنا شیڈول آگے ہیچھے کر لیتے۔ اب وہ ریاست کے سربراہ ہیں، اب انہیں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ شیڈول آگے پیچھے کر لیں۔ 3 سال ہم نے پرچم سر نگوں کیا ہے۔

اسپیشل پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے کہا کہ شہباز شریف کی طبی بنیادوں پر حاضری معافی کی مخالفت نہیں کرتا۔ فرد جرم کیلئے ملزمان کا حاضر ہونا لازم مگر حاضری نامکمل ہے، عدالت جو مناسب سمجھے حکم جاری کرے۔
ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ ایف آئی آر میں رمضان شوگر ملز، العربیہ شوگرملز اور شریف گروپ آف کمپنیز کا ذکر کیا گیا ہے۔ شہباز شریف کا رمضان شوگر، العربیہ شریف گروپ آف کمپنیز سے کوئی تعلق نہیں۔

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ وہ ان کمپنیز کے کبھی ڈائریکٹر نہیں رہے اوررمضان شوگر ملز وغیرہ کے شیئر ہولڈر بھی نہیں رہے۔ شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں ایک روپیہ بھی ان متنازع اکاؤنٹس سے نہ آیا نہ نکلوایا گیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر میں کیش بوائے کا ذکر ہے جس پر ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ ایف آئی آر میں 25 ارب کی بات کی گئی ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ مختلف اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔

وکیل شہباز شریف نے عدالت کو مؤقف بیان کیا کہ اس دورحکومت جس میں وزیرداخلہ اس کیس کی فائل سامنے رکھ کر پریس کانفرنس کرتے تھے۔ اسی دور حکومت میں قلمبند شدہ گواہوں کے بیانات پڑھوں گا۔ ان بیانات میں سے کسی ایک شخص کے بیان میں جرم ہونے کی بات ہوگی تو میں عدالت سے باہر چلا جائوں گا۔

امجد پرویزایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ سابق دورحکومت میں بغیر تفتیش کے یہ مقدمہ درج کیا گیا۔ قانون شہادت آرڈیننس میں لکھا ہے کہ الزام ثابت کس نے کرنا ہے۔ صفحہ مثل میں شہبازشریف کی بابت ایسی شہادت نہیں ہے جس کو واقعاتی شہادت کا درجہ دے کر خلاف پیش کیا جا سکے۔

وکیل شہباز شریف نے دلائل میں مؤقف پیش کیا کہ سابق حکومت کے دباؤ پربدیانتی کیساتھ تحقیقات کی گئی ہیں۔ شہبازشریف کیخلاف اس کیس میں ایک بھی ثبوت نہیں ہے۔ ایف آئی اے نے انکوائری کے 3 ماہ بعد مقدمہ درج کیا۔ سیاسی انجینئرنگ کیلئے یہ کیس بنایا گیا ہے۔

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ اربوں روپے کا الزام لگایا گیا ہے درحقیقت اتنے روپے نہیں بنتے۔ تفتیشی نے اکائونٹ میں جمع ہونے والا کریڈٹ اکٹھا کر کے الزام لگا دیا۔ آج اگر میں نے 10 روپے جمع کروائے اور کل نکلوائے پھر پرسوں 10 روپے اکائونٹ میں جمع کروائے تو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ کون سے 10 روپے ہیں۔

ایڈووکیٹ امجد پرویز نے دلائل دیے کہ رانا ثناءاللہ کا کیس ایک کلاسیکل کیس ہے ایک طرف وہ جیل سے رہا ہو رہے اور نیب نے بلا لیا۔ مسرورانور کے بارے عدالت نے پوچھا کہ وہ پیسے نکلواتا رہا ہے، پاکستان میں پیسے نکلوانا کون سا جرم ہے؟

وکیل شہبازشہریف نے یہ بھی کہا کہ پیسے نکلوانا صرف اس وقت جرم ہے جب نکلوائے گئے پیسے کسی جرم کیلئے استعمال ہوں۔ ایک ایک دھیلے کی تحقیقات اس ادارے نے کی جو اللہ کے بعد ادارہ ہے۔ نیب ایک سپرادارہ ہے، اس ادارے کو تو کہیں نظر نہیں آیا مسرورانور نے پیسا نکلوا کردیاْ۔

امجد پرویزایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ مسرورانور نیب میں بھی ملزم ہے مگراس پر یہ الزام نہیں لگایا گیا۔ مقصود چپڑاسی کی بارے میں بات کرتے ہیں، ایک ملزم ایک الزام میں کتنی بارجیل جائے گا؟ چالان میں رقم کی جو بات کی گئی وہ اثاثوں میں نہیں بلکہ ترسیلات تھیں جو رقم آئی اورچلی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل نے دلائل میں یہ بھی کہا کہ ایف آئی اے نے مرضی کے بیانات کیلئے لوگوں کو اٹھایا۔ بے نامی ترسیلات پاکستان کے کسی قانون میں جرم نہیں لکھا گیا۔ 2017ء میں بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ آیا اس سے پہلے بےنامی ترسیلات جرم نہیں تھا۔

ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ یہ باتیں تو ابھی سطحی طورپرکی ہیں، کیس کے میرٹ پر ایک دن میں میری بحث مکمل نہیں ہونی۔ وہ کہتے ہیں کہ گجرات کا ایک بندہ ہے جو کک بیک لیتا تھا۔ ایف آئی اے جب پڑھیں گے تو سارا کچھ سامنے آ جائے گا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ تو اس کے بیٹے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

ایڈووکیٹ امجدپرویز نے کہا کہ ایف آئی اے تو اورنگزیب کو ہراساں کررہا ہے، عبوری ضمانت میں عدالت میں کھڑا ہے۔ گجرات کا بندہ اورنگزیب اس عدالت کے سامنے کھڑا ہے۔ باقی عدالتوں میں بھی کیسز ہیں، انہی ملزموں نے ابھی جانا ہے۔

جج نے امجدپرویزایڈووکیٹ سے مکالمے میں کہا کہ ابھی تو آپ نے ایف آئی آر کی صرف 2 لائنوں پر بحث کی ہے۔ آپ اس کیس کو قسطوں میں کرنے کی بجائے ایک ہی بار مکمل کر لیں۔

امجد پرویزایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت اتوار کو 5 بجے لگا لیں جس پر جج اعجازحسن اعوان نے کہا کہ اتوارکو میں کوئی عدالت نہیں لگاتا۔

فاروق باجوہ سپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ ناگزیرحالات کی وجہ سے میں نے شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت نہیں کی۔ کیس نیا نیا میرے پاس آیا، تیاری کیلئے مناسب وقت دیا جائے۔

وکیل شہباز شریف نے اسپیشل پراسیکیوٹرسے مکالمے میں کہا کہ اگر آپ کو دلائل کی جلدی نہیں تومجھے زیادہ وقت چاہئے۔

عدالت نے 21 مئی کو وکلاء کو بحث اورملزمان کو فردِ جرم کے لیے طلب کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں