6

سیلابی صورتحال سے سیاحت بری طرح متاثر، پرفضا مقامات پر ویرانیوں کے ڈیرے

راولپنڈی:(ہاٹ لائن) ملک میں جاری سیلابی صورتحال کے باعث ملکہ کوہسار، گلیات سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی، بڑی تعداد میں سیاحوں نے سیاحتی ٹرپس منسوخ کردیے۔
سیاحوں کی آمد سے جڑے ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز سمیت دیگر کاروباری افراد شدید پریشانی سے دوچار ہیں، گلیات میں ہوٹلنگ کے کاروبار سے منسلک حاجی سعید شبری کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے سیاحوں نے اپنے ٹرپس منسوخ کردئیے، اسی وجہ سے مری، گلیات سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر ویرانیوں کے ڈیرے ہیں۔
اکا دکا سیاح راولپنڈی اسلام آباد سے سیاحتی مقامات کا رخ کررہے ہیں جو شام ڈھلتے ہی واپسی اختیار کرلیتے ہیں، معمولی حالات میں اس سیزن میں مری اور گلیات کے تمام ہوٹلز سیاحوں سے بھر جاتے ہیں، ملک کے دیگر علاقوں میں گرمی سے ستائے سیاح ان علاقوں میں آکر یہاں کے موسم کو خوب انجوائے کرتے ہیں جس سے یہاں موجود کاروباری افراد خوب منافع کماتے ہیں مگر سیلاب کی وجہ سے سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد سے سیاحوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرکے روزگار حاصل کرنے والے ٹرانسپورٹر خالد یامین کا کہنا تھا کہ وہ پرائیوٹ ٹور کمپنیوں کے ساتھ منسلک ہیں ہر سال اگست کے مہینے میں سیاحوں کی بڑی تعداد سیاحتی مقامات کا رخ کرتی ہے، سیاحوں کو سیاحتی مقامات تک لے جانے کے لیے ہیوی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔
سیاحوں کی آمد و رفت سے بہترین کمائی ہوجاتی ہیں، لیکن جب سے ناران کاغان، سوات، گلیات، بالاکوٹ اور دیگر علاقوں میں سیلاب آیا ہے پہلے سے بکنگ حاصل کرنے والے سیاحوں نے بکنگز منسوخ کردی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹرز بھی پریشان ہیں، صرف مقامی افراد لوکل ٹرانسپورٹ پر اپنے آبائی علاقوں کی جانب جارہے ہیں۔
خالد یامین کا کہنا تھا کہ اگر حالات لمبے عرصے تک ایسے رہے تو سیاحت کے لیے ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے افراد کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، مری، ٹھنڈیانی، ایوبیہ، ایبٹ آباد، نیلم، کہوٹہ کے سیاحتی مقامات پر قائم ٹک شاپس، ڈھابے بھی ویران ہیں، سیلاب سے سیاحت بری طرح متاثر ہورہی ہے، سیاحت سے آمدن حاصل کرنے والے افراد نے حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں