28

سپر ٹیکس کا نفاذ، اربوں روپے کا نقصان

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس کے نفاذ کے اعلان کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، 100 انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 1665.18 پوائنٹس کی مندی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے بعد 2 گھنٹے تک مارکیٹ ہموار رہی تاہم ساڑھے گیارہ بجے کے بعد انڈیکس میں ایک ہزار 598 پوائنٹس کمی ریکارڈکی گئی، دوپہر بارہ بجے کے قریب انڈیکس 2 ہزار 161 سے زائد پوائنٹس گر گیا تھا۔ جس کے باعث کاروبار کو معطل کردیا گیا ۔ پی ایس ایکس کی رول بک کے مطابق جس سطح پر انڈیکس آخری مرتبہ بند ہوا ہو اس سے 5 فیصد اوپر یا نیچے جانے اور 5 منٹ تک وہاں رکنے پر تمام کاروبار ایک مخصوص مدت کے لیے روک دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف سٹاک مارکیٹ میں بدترین مندی کے بعد اُتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا جبکہ کاروبار کے اختتام کے موقع پر 1665.18 پوائنٹس کی مندی ریکارڈکی گئی اور انڈیکس 41051.79 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔ پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 3.9 فیصد کی تنزلی ریکارڈ کی گئی جبکہ 21 کروڑ 6 لاکھ 48 ہزار 617 شیئرز کا لین دین ہوا، بدترین مندی کے باعث سرمایہ کاروں کو اڑھائی سو ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت تمام بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگارہی ہے جس پر مارکیٹ نے بہت منفی طریقے سے ردِ عمل دیا کیوںکہ یہ اقدام کارپوریٹ سیکٹر کے منافع کو بری طرح متاثر کرے گا۔ 10 فیصد سپر ٹیکس کے ساتھ پاکستان کا کارپوریٹ انکم ٹیکس اور دیگر تمام ٹیکس ملا کر 50 فیصد سے زائد ہوجائے گا۔ سرمایہ کاروں کا ٹیکس 55 فیصد سے بڑھ جائے گا۔ ٹیکس کی یہ شرح نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور پاکستان کی تاریخ میں بھی بلند ترین شرح ٹیکس ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں