سندھ میں ایچ آئی وی کےرجسٹرڈمریضوں کی تعدادمیں ہوشربااضافہ

0
70

ہاٹ لائن نیوز : سندھ میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار 300 سے تجاوز کر گئی، متاثرین میں خواتین، مرد، بچے اور خواجہ سرا شامل ہیں۔ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے صوبے میں بیس سے زائد مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

کراچی کے سول اسپتال میں ایچ آئی وی کے علاج کے مرکز کی انچارج ڈاکٹر سمیرا حیدر کا کہنا ہے کہ ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس مہلک مرض سے بچنا ممکن ہے۔

اگر ایچ آئی وی وائرس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ ایڈز میں بدل جاتا ہے۔ ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال، متاثرہ مریض کے ذریعے استعمال ہونے والے جراحی کے آلات، بغیر اسکریننگ کے خون کی منتقلی یا ایڈز سے متاثرہ شخص کے ساتھ جنسی رابطہ ایچ آئی وی وائرس کو پھیلا سکتا ہے۔

سندھ میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تیس ہزار تین سو سے زائد ہے جن میں متاثرہ مردوں کی تعداد تیرہ ہزار سے زائد ہے جبکہ متاثرہ خواتین کی تعداد تین ہزار سات سو چونسٹھ ہے۔

بدقسمتی سے ایک ہزار چوہتر لڑکے، نو سو اٹھارہ لڑکیاں اور سات سو دس خواجہ سرا بھی اس مہلک مرض میں مبتلا ہیں۔

سندھ حکومت کے ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر کا کہنا ہے کہ سندھ میں ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کے لیے بیس سے زائد مراکز کام کر رہے ہیں۔ کراچی میں آٹھ، لاڑکانہ، سکھر، شہید بینظیر آباد، میرپور خاص اور حیدرآباد میں ایک ایک سینٹر قائم ہیں۔

حکومت سندھ کے ایچ آئی وی پروگرام کے تحت، متعدی بیماری میں مبتلا افراد پاکستان میں کہیں بھی اپنا علاج اور تشخیص مفت کروا سکتے ہیں۔

Leave a reply