9

سرکاری زمین پر قبضے کا معاملہ؛ حلیم عادل شیخ گرفتاری کے بعد جیل منتقل

کراچی کی انٹی انکروچمنٹ عدالت نے اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے اور 8 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

کراچی میں اینٹی انکروچمنٹ عدالت کے روبرو اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کیخلاف سرکاری زمین پر قبضے سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی،، جس میں اینٹی انکروچمنٹ حکام نے بتایا کہ حلیم عادل پر سرکاری زمین پر قبضے کا الزام ہے، ملزم تحقیقات میں شامل نہیں ہورہے ہیں اور 12 نوٹسز جاری کرنے کے باوجود وہ بیان ریکارڈ کرانے نہیں آئے۔

انکروچمنٹ حکام کے بیانات سننے کے بعد عدالت نے حلیم عادل شیخ کی ضمانت منسوخ کردی، جس کے بعد اینٹی انکروچمنٹ پولیس نے حلیم عادل شیخ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو وکلا نے روک دیا۔
وکلا کا کہنا تھا کہ آپ لوگ کمرہ عدالت میں گرفتار نہیں کرسکتے جس پر تفیتیشی افسر نے کہا کہ ہم تھانے لے جارہے وہاں بیان قلمبند کرکے جیل بھیج دینگے۔

وکلا سے بحث کے بعد تفتییشی افسر نے عدالت سے رجوع کیا، تو حلیم عادل شیخ کے وکلا نے عدالت سے مقدمے کی سماعت آج ہی کرنے درخواست کی۔
وکلا نے مؤقف اپنایا کہ حلیم عادل شیخ سرینڈر کررہے ہیں، عدالت جیل بھیجنے کا حکم جاری کرے، کیس میں چالان جمع ہوچکا ہے اور چالان کے بعد عدالت جیل بھیجنے کا حکم جاری کرسکتی ہے۔
وکلا نے درخواست کی کہ حلیم عادل شیخ کا بیان کمرہ عدالت میں لینے کا تفیتیشی افسر کو حکم دے جس پر عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کی جائیگی۔
تفیتیشی افسر نے کمرہ عدالت میں حلیم عادل شیخ کا بیان قلمبند کیا، بیان ریکارڈ کرنے کے بعد پولیس نے حلیم عادل شیخ کو سینٹرل جیل منتقل کردیا۔
حلیم عادل شیخ کو بکتر بند میں سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، اس دوران کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی جنہوں نے بکتر بند کو روکنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔
عدالت کے باہر انتظامیہ کی جانب سے نقص امن کے خدشے کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
اس سے پہلے حلیم عادل شیخ نے عدالتی احاطے میں غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ ہم بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں، ہم نے عدالت کو لکھ کردیا ہے کہ ہم سرینڈر کررہے ہیں۔
فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ایک شریف آدمی اور اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا جارہا ہے، پورے شہر کی پولیس ایک منتخب نمائندے کو پکڑنے کے لئے جمع کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اینٹی انکروچمنٹ عدالت نے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر فریقین سے 19 اگست تک جواب طلب کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں