سانحہ جڑانوالہ : حکومتی رپورٹ غیر تسلی بخش کیوں ؟

0
65

ہاٹ لائن نیوز: سانحہ جڑانوالہ پرجوڈیشل کمیشن نہ بنانیکے کابینہ کے فیصلے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی ۔

سرکاری وکیل کا جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ ، عدالت نے کیس کی سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کردی ۔

ایڈوکیٹ جنرل خالد اسحاق نے کہا کہ ہم کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا از سر نو جائزہ لیں گے،

عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل آپ کی جے سے کہا کہ آئی ٹی رپورٹ ایک افسر کی انکوائری رپورٹ لگتی ہے ۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومتی رپورٹ کے مطابق 22 چرچ جلے ہیں، اگر اس چیز کو پیسوں کی ادائیگی سے جوڑیں گے تو انتہائی غلط ہے،

عدالت نے وکیل درخواست گزار کو حکم دیا کہ آپ اپنے طور پر درخواست گزاروں کے کسی شخص کو اپنے پاس بلا کر بات بھی کریں، کچھ چیزیں فیصلہ سازی میں مدد کریں گی ۔

جسٹس عاصم حفیظ نے بشپ آزاد مارشل سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی ، بشپ آزاد مارشل سمیت دیگر کی جانب سے ایڈوکیٹ محبوب کھوکر عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے رپورٹ جاری کی ہے کہ سانحہ جڑانوالہ پر کمیشن نہیں بنا سکتے، رپورٹ حقائق کے منافی ہے،عدالت سانحہ جڑانوالہ پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم جاری کرے ۔

Leave a reply