سابق وزیر اعلی چار روزہ ریمانڈ پر پھر سلاخوں کے پیچھے

0
56

لاہور : ( ہاٹ لائن نیوز) پرویز الٰہی کے خلاف سرکاری ٹھیکوں میں گھپلے اور کک بیکس کے کیس میں اہم پیش رفت ، احتساب عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا۔

عدالت نے چوہدری پرویز الہی کے جسمانی ریمانڈ میں 2 ستمبر تک توسیع کردی۔

لاہور کی احتساب عدالت میں سرکاری ٹھیکوں میں گھپلے اور کک بیکس کے کیس میں پرویز الہی کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا ، اس موقع پر نیب کے تفتیشی افسر نے پرویز الہی سے ابتدائی تحقیقات سے متعلق رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرا دی ۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ پرویز الٰہی تفتیش میں نیب سے تعاون نہیں کر رہے ۔ پرویز الٰہی کے اکاؤنٹ میں 120 ملین روپے آئے لیکن پرویز الٰہی تاحال اسکے زرائع نہیں بتا سکے ، پرویز الٰہی کے فیملی ممبران کے اکاؤنٹس میں بھاری رقوم جمع ہوئیں ۔ بھاری رقم پرویز الٰہی کے چیف منسٹر بننے کے بعد ٹرانسفر ہوئی ، بظاہر عہدے کا ناجائز استعمال کیا گیا ۔ عظمت حیات نے بطور وعدہ معاف گواہ کک بیکس اور رشوت سے متعلق بیان دے دیا ہے ، پرویز الٰہی نے قانون سے ہٹ کر کک بیکس کے لیے سکیمیں منظور کیں ، پرویز الٰہی نے دیگر شریک ملزمان سے ملکر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا ، سابق وزیر اعلی سے مزید تفتیش کیلیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے ۔

پرویز الہی کے وکیل امجد پرویز نے پرویز الہی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق پرویز الہی کی درخواست کی مخالفت کی اور دلائل میں کہاکہ پرویز الہی کی ابتک دس مختلف کیسز میں گرفتاری ڈالی جاچکی ہے ۔

پرویز الٰہی کیخلاف کئی نئے کیسز درج کر کے انہیں چھپا لیا گیا ، مونس الہی نے اگر کوئی غلط کام کیا ہے تو اسکی زمہ داری پرویز الہی پر نہیں ڈال سکتے ، مونس الہی خود مختار ہیں اور اپنے کاموں میں مکمل آزاد ہیں ، اعلی عدلیہ کے فیصلے بھی یہی کہتے ہیں کہ خودمختار بچوں کے کاموں کا والد زمہ دار نہیں ہے، پراسکیوشن نے بڑے بڑے الزامات عائد کیے ہیں پراسکیوشن سے کہیں کہ وہ ان الزامات کی دستاویزات بھی فراہم کریں ۔

وکیل نے استدعا کی کہ پرویز الہی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کی جائے ۔

دوران سماعت عدالتی اجازت سے پرویز الہی نے روسٹرم پرعدالت کو بتایاکہ فیملی سے ملاقات پراپر نہیں کرائی جا رہی ، میرے ٹیسٹ ہونے تھے وہ نہیں کرائے گئے ، میری آنکھوں کا چیک اپ ہونا تھا پر نہیں کرایا گیا ، مجھے فزیو تھراپی کی ضرورت تھی وہ بھی نہیں کرائی گئی ، اللہ کی عدالت کے بعد آپکی عدالت ہے آپ سخت آرڈر پاس کریں ۔ یہی میری گذارشات تھیں عدالت مہںربانی کر کے آرڈر جاری کرے ۔

احتساب عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا اور عدالت نے چوہدری پرویز الہی کے جسمانی ریمانڈ میں 2 ستمبر تک توسیع کردی۔

Leave a reply