سائنسدانوں کی کم کیلوریز والی قدرتی شکر تیار، شوگر کے مریضوں کے لیے امید افزا پیش رفت

0
65
سائنسدانوں کی کم کیلوریز والی قدرتی شکر تیار، شوگر کے مریضوں کے لیے امید افزا پیش رفت

ماہرینِ سائنس نے قدرتی شکر کی ایک ایسی قسم تیار کر لی ہے جو ذائقے میں عام چینی سے بہت مشابہ ہے، مگر صحت پر اس کے منفی اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس شکر کو ٹاگیٹوز کہا جاتا ہے، جو خاص طور پر شوگر کے مریضوں اور صحت کا خیال رکھنے والے افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ٹاگیٹوز میں کیلوریز عام چینی کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہیں اور یہ خون میں شوگر یا انسولین کی سطح کو اچانک نہیں بڑھاتی۔ اگرچہ اس کی مٹھاس عام شکر سے قدرے کم ہے، تاہم ذائقے میں فرق بہت معمولی ہے۔
ٹاگیٹوز قدرتی طور پر کچھ پھلوں اور دودھ میں بہت کم مقدار میں پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ماضی میں اس کی تیاری مہنگی اور پیچیدہ تھی۔ اب سائنسدانوں نے بیکٹیریا کے استعمال سے اسے تیار کرنے کا ایک نیا اور مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے ای کولی بیکٹیریا کو جینیاتی طور پر اس طرح تبدیل کیا گیا کہ وہ ایک مخصوص اینزائم کے ذریعے گلوکوز کو ٹاگیٹوز میں تبدیل کر سکے۔ اس جدید طریقۂ کار سے پیداوار کی شرح تقریباً 95 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو پہلے کے طریقوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ شکر دانتوں کے لیے بھی زیادہ محفوظ ہے کیونکہ یہ منہ میں نقصان دہ جراثیم کی افزائش کو کم کرتی ہے۔ مزید یہ کہ ٹاگیٹوز بیکنگ کے دوران بھی اپنی خصوصیات برقرار رکھتی ہے، جس کے باعث اسے کیک، بسکٹ اور دیگر اشیائے خوردونوش میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹاگیٹوز جزوی طور پر ہضم ہوتی ہے، جس سے آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی نشوونما میں مدد مل سکتی ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق یہ وزن اور کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ شکر عام صارفین تک مناسب قیمت پر دستیاب ہو گئی تو یہ شوگر، موٹاپے اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے ایک اہم اور محفوظ متبادل بن سکتی ہے۔

Leave a reply