25

حمزہ شہباز کی کرسی خطرے میں، سپریم کورٹ سے ایک اور بڑی خبرآگئی

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی تعیناتی کا معاملہ، جسٹس اعجازلاحسن نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتو کوئی تقرری اور تبادلہ نہ ہو ،پرویز الہٰی بھی اپنے اتحادیوں سے مشورہ کرلیں ،آدھے گھنٹے میں بتائیں۔ تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت کررہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ کا حصہ ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس وقت تک حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ رہنے کو آپ مانتے ہیں؟جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کا کہناتھا کہ میں ایسا نہیں مان سکتا وہ اپنے عہدے پر نہ رہے۔‌ چیف جسٹس نے استفسار کرتے کہا کہ پھرہم آئینی راستہ اختیار کریں گے جس سے آپ دونوں کا نقصان ہوگا، پرویزا لہٰی نے کہا کہ عدالت یہ حکم دیں کہ ہم آپس میں طے کریں جس حل پر دونوں راضی ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ کام آپ عدالت آنے سے پہلے کرکے آجاتے نا چودھری صاحب؟وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف بولے کہ عدالت کا احترام کرتا ہوں ،شخص اہم نہیں نظام اہم ہے،قوم نے دیکھا کہ ڈپٹی سپیکر پر حملہ ہوا،مزید کہا کہ دوسری طرف سے اگر کوئی قانونی دلیل ہو تو میں ماننے کو تیار ہوں،آئین اور قانون کے مطابق میرے پاس عددی اکثریت ہے،اگر17 تک کوئی بھی وزیراعلیٰ نہ رہا تو نظام کیسے چلے گا؟ ہمارے پاس عددی اکثریت موجود ہے،آج الیکشن ہونے دیا جائے جب 20سیٹوں پر الیکشن ہوگا تو عدم اعتماد کی تحریک لاسکتے ہیں،ہم نے اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں