34

تحریک عدم اعتماد کے بعد عدم استحکام

تحریر ۔۔۔۔۔ مخدوم سید فرخ عباس نقوی
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے اتحادی حکومت نے ملک کو اس وقت سنگین بحرانوں سے دو چار کرکے ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دے دیا ۔تحریک عدم اعتماد میں لوٹے کام تو نہیں آئے لیکن ٹوٹے قوم کے سامنے عیاں ہو گئے ۔سوال یہ ہے کہ کیا تحریک عدم اعتماد ملک میں اس لئے لائی گئی تھی کہ ملک میں عدم استحکام پیدا ہو جائے ۔کیا تحریک عدم اعتماد اس لئے لائی گئی تھی کہ ملک دیوالیہ ہوئے اور 22 کروڑ عوام فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں ۔اتحادی پارٹیوں کی تمام تدابریں الٹی پڑ گئیں ۔ عوام ایک ماہ ہی بدحال ہو گئے ۔ انڈسٹریز اور کاروبار بند ہونا شروع ہو گئے ۔ بے روز گاری اور مہنگائی کا اژدھا 22 کروڑعوام کونگل رہا ہے ۔حکومت کے امپورٹڈ فیصلے ملک و قوم پر قیامت بن کر ٹو ٹ پڑے ‘مہنگائی کا گراف آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور لوگ دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں ۔ مہنگائی سے عوام کا جینا مشکل ترین ہو چکا ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام پر ایٹم بم گرا دیا گیا ہے ایک ہفتے میں پٹرول کی قیمت 60 روپے فی لیٹر اضافہ ‘ بجلی کی قیمتیں 45فیصد خوردنی تیل 200 روپے اضافہ گیس کی قیمتیں45 فیصد بڑھا دی گئیں ۔ مہنگائی کا خاتمہ کرنے والوں نے دس گنا مہنگائی کر دی ۔ ڈیڑھ ماہ میں ہی حکومت ناکام ہو گئی ہے۔ قوم نے انہیں مسترد کر دیا ہے ۔ شہری دن بدن اپنی بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔ آٹا ‘ چینی ‘ گھی ‘ دالیں سمیت ہر چیز کے ریٹ چار گنا کر دیئے گئے ہیں جو اس حکومت کی نااہلی ‘ نالائقی کا منہ بولتا ثبوت ہے حکومت کا قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں بلکہ حکومت خود ہی عوام پرمہنگائی کے خود کش حملوں میں مصروف ہے ۔ وطن عزیز میں پیٹرول، گھی،کھانے کے تیل سمیت عام آدمی کیلئے اشیائے ضروریہ نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ حلال کمانے والوں کیلئے کچن چلانا دنیا کا مشکل ترین کام بن چکا ہے۔ گرمی کی چھٹیوں کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں کی وجہ سے ہی شائد بہت سے سفید پوش اپنے بچوں کو معیاری سکولوں سے ہٹا کر تعلیم روکنے پر مجبور ہو جائیںگے ۔اگر سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مہنگے معاہدے کیے تھے تو موجودہ حکومت نے ان کا بوجھ عام آدمی پر ڈال کر ‘عذرگناہ بدتراز گناہ’ کے مصداق آئی ایم ایف کی تمام شرائط قبول کی ہیں۔ یہ سب انگریز کے غلام آئی ایم ایف کے غلام ہیں۔ سیاسی لیڈروں کو صرف اپوزیشن دور میں مہنگائی نظر آتی ہے۔ ان کی ڈگڈگی پر معصوم عوام ناچتے ہیں۔ عدالتیں، انتظامیہ اور بیوروکریسی انہی کے لچھن پورے کرتی ہیں۔ کبھی سنا کہ مہنگائی پر کسی عدالت نے از خود نوٹس لیا ہو؟ مزدور کی تنخواہ بائیس سے چوبیس ہزار میں کسی عدالت یا وزیر معیشت نے چھ افراد کی فیملی کا بجٹ بنوایا ہو؟ کبھی نہیں کیونکہ یہ عوام کا معاملہ ہے اشرافیہ کا نہیں۔اب عوام کو مزید مہنگائی کے آنے والے طوفان کی تیاری کی بھی تیاری کرلینے ہو گی جس سے نہ تو پٹواری بچے گا نہ یوتھیا اور جسے نہ شہباز روک پائے گا نہ عمران حالات اس قدر سنگین ہو سکتے ہیں کہ شائد کھانے پینے کی بھی بہت سی اشیاء آپ کی دسترس سے باہر ہو جائیں لہذا چند ضروری اقدامات کر لیں شائد آپ کم متاثر ہوںاپنے تمام غیر ضروری(جن کے بغیر گزارہ ممکن ہے) اخراجات ترک کر دیں،اور اپنی آمدن کا 5،10 یا 20 فیصد ضرور بچائیں اور کوشش کریں کہ اس سے کوئی ایسی چیز خرید کے رکھ لیں جس کی قیمت یا ڈیمانڈ کم ہونے کے کوئی چانسز نہ ہوں مثلا(سونا وغیرہ) تاکہ مشکل وقت میں وہ آپ کے کام آ سکے غیر ضروری سفر و سیاحت،باہر کے کھانوں،کپڑوں اور اپلائنسز کی خریداری موخر کر دیں‘موبائل اور انٹرنیٹ کے پیکجز آدھے کر دیں‘اپنے گھروں میں جس قدر ممکن ہو سبزیاں اگانا اور مرغیاں پالنا شروع کریں اور جن کے پاس وافر جگہ ہے وہ دودھ دینے والا کم از کم ایک جانور ضرور رکھیںنوجوان ٹک ٹوک یا دیگر سوشل ایپس پے وقت ضائع کرنے کے بجائے آن لائن بزنس سکلز سیکھیں اور انٹرنیشنل کمپنیوں(ایمازون،ای بے) وغیرہ پے فی الفور کام شروع کر کے آمدنی بڑھائیں‘صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں اور قرب و جوار میں موجود بے آسراء لوگوں کا خیال رکھیں‘جتنا ممکن ہو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیں‘تاجر حضرات اپنے دل نرم کریں اور غرباء و مساکین کو ہر ممکن رعایت دیں‘چیزوں کی شارٹیج پے panic نہ ہوں اور پاگلوں کی طرح لپک نہ پڑیں بلکہ اطمینان سے رہیں اور حقداروں کو لینے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں