تحریک انصاف آزادی مارچ کی ناکامی کی اہم وجوہات سامنے آگئیں 38

تحریک انصاف آزادی مارچ کی ناکامی کی اہم وجوہات سامنے آگئیں

پاکستان تحریک انصاف کےی 25 مئی کو آزادی مارچ کی ناکامی کی اصل اور اہم وجوہات منظر عام پرآگئیں ہیں جس پر پارٹی نے فوری ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے وزراء اور دیگر ارکان اسمبلی مارچ سے ایک رات قبل عمران خان کو تنہا چھوڑ گئے تھے۔

حقیقی آزادی مارچ سے غائب ہونے والوں میں شوکت یوسفزئی، کامران بنگش سمیت طفیل انجم، ریاض خان، عارف احمد زئی، شفیع اللہ، ہمایون خان، فضل شکور بھی پختونخوا ہاؤس گئے۔

اسکے علاوہ ابراہیم خٹک، اقبال وزیر، امجد علی، تاج محمد ترند، خلیق الرحمن، بھی غائب ہونے والوں میں شامل تھے جبکہ بابر سلیم سواتی، محب اللہ، ڈاکٹر امجد،عائشہ بانو، ساجدہ بھی پختونخوا ہاؤس چلے گئے تھے۔

پیر مصور غازی، مشتاق غنی، ظہور، سید فخر جہاں رات گزارنے اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے تھے۔

خیال رہے کہ وزراء اور ایم پی ایز کی پختونخوا ہاؤس آمد کی سی سی ٹی وی فوٹیج عمران خان کو فراہم کر دی گئی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے ارکان اسمبلی کی کثیر تعداد مارچ سے غائب ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ سے غائب وزراء سے وزارتیں لینے کا امکان ہے جبکہ پہلے مرحلے میں شوکاز نوٹس دیا جائے گا، آئندہ کیلئے ان ایم پی ایز کو ٹکٹ نہ ملنے پربھی غور کیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے پرویز خٹک کو تمام اختیارات دیئے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں