85

اسلامی اکانومی سسٹم وقت کی ضرورت کیوں ہے “؟؟؟ تحریر : وجیہہ جاوید

تحریر : وجیہہ جاوید
عمران خان نے پاکستان میں ریاست مدینہ کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی جس میں انہیں بری طرح ناکامی ہوئی ۔اب اگر اس کڑی کو آگے لے کر جانے کی بات کی جائے تو مذہبی جماعتیں آگے آ کر عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے کہ ہم کیا لا سکتے ہیں، کیا دے سکتے ہیں، کس طرح سے معاملات اور حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی مذہبی جماعتیں سیاسی نظام میں ناکامی کے بعد مذہبی نظام رائج کرنے کا دعویٰ کریں تو ان کا فرض ہے کہ لوگوں کو اس نظام سے مکمل طور پر واقفیت دلائیں نہ کہ سیاسی نظام کے ڈرامے کی طرح ایک نئے سکرپٹ پر نیا ڈرامہ عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جائے اور خوابوں خیالوں کی دنیا میں رکھا جائے۔
مذہبی جماعتوں کو رویہ بدلنا چاہیے ۔سیاسی جماعتوں کی روش اختیار نہیں کرنی چاہیے جس میں سب سے پہلا کام ڈرامے، بہتان ، الزام اور غیبت کرنے سے گریز کریں اور اس بات کو مانیں کہ عمران خان کی نیت اچھی تھی مگر ایک نا لائق ٹیم کی وجہ سے یہ نظام قائم نہیں کرسکے ۔
ہم نے صحابہ کرام کی زندگی کے بے شمار قصّے سن رکھے ہیں جس سے کوئی بھی انسان متاثر ہو سکتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ تمام واقعات واہ واہ کرنے تک محدود ہیں حالانکہ اس میں سیکھنے کا نظام موجود ہے ۔ ان کی مذہبی عبادتوں کے علاوہ بھی ایک مکمل معاشرتی زندگی تھی جوانہوں نے بہت مثالی طور پر گزاری اور اس کا راز یہ تھا کہ اس دور میں وقتی طور پر انہیں مشکلات کا سامنا رہا مگر جب بنو امیہ کے دور میں انہوں نے سنہری وقت دیکھا۔
جہاں سے ریاست کا نظام شروع ہوا اس دور میں حضرت ابوبکر نے اپنی تمام دولت اس سلسلہ کے قیام میں وقف کی ۔ہم ان باتوں پر غور نہیں کرتے کہ اس دولت کا کیا کیا گیا؟ کیونکہ ہم سرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ ان کی دولت کو حکومتی مسائل حل کرنے میں خرچ کیا گیا حالانکہ یہ سوچ غلط ہے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ سرمایادرانہ نظام میں آپ کو مستقل طور پر چیرٹی کے لیے ایک ڈونر چاہیے۔
ہم سرمایہ دارانہ نظام میں اسلامی نظام کا سوچتے ہیں اور آخر میں اسی نظام کو حتمی سمجھتے ہیں۔
حضرت ابوبکر نے اپنی جتنی دولت وقف کی اس کے ذریعے اس وقت عوام کو قرضوں ٹیکسوں اور معاشی غلامی سے آزادی دلائی گئی۔جب آپ ایک بار قوم کو مکمل طور پر آزاد کر دیں گے تو اس کے بعد وہ اپنے وسائل کے مطابق وہ جو کچھ بھی کمائیں گے وہ نفع میں آئے گا تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت کیسے چلتی تھی؟؟
اگر ایک مذہبی جماعت پریس کانفرنس میں لوگوں کو یہ بتائےکہ حکومت میں وزیر اعظم سے لے کر ہر منسٹر اور کوئ بھی پبلک پورٹ فولیو ہولڈر تنخواہ نہیں لے گا تو عوام پاگل ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ لے کر آئے جو مفت میں کام کرنے کو تیار ہوں ۔
اس سے چار چیزیں ختم ہو گئی ایک تو کرپشن ریٹ زیرو ہو جائے گا۔
دوسرا اعتماد کا مسئلہ حل ہوجائے گا اس سے زیادہ قابل اعتماد کون ہوگا جو مفت میں کام کرنے کے لیے تیار ہے ۔
تیسرا آپ کی گورنمنٹ پر جو وذرا کی تنخواہوں کا معاشی بوجھ ہے زیرو ہو جائے گا اور چوتھا ایک ایسی فضا پیدا ہوگی کہ مدد کا جذبہ پروان چڑھے گا ۔
ایک چھوٹا سا قدم پورے نظام کو بہتری کی طرف لا سکتا ہے۔ یہ حضور کا بنایا ہوا نظام تھا۔ ان کی مصلحتوں کو سمجھنے کے لئے اکانومی کے بنیادی اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے ۔اسلام ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہے
آپ کائنات کے اتنے بڑے معمار کی ترتیب کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک ان باتوں کی سمجھ بوجھ نہ ہو کہ پیسے کماۓ اور بچائے کیسے جائیں اور اس کی فراوانی کیسے ہوتی ہے۔
اس بات سے ماورا کہ آپ کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور کون سا کاروبار کر رہے ہیں ۔ڈاکٹر سے لے کر انجینئر اور ریڑھی بان تک تمام کاروباری لوگ ہیں۔
اس وقت سب سے اہم کام اسلامی ‏اکانومی کی بنیاد کو سمجھ کر رائج کرنا ہے اور اسے وہی لوگ رائج کرسکتے ہیں جو اسلامی اصولوں کی پابندی کرتے ہوں۔ مذہبی جماعتوں کو بجائے دھرنے ،ڈرامے، طعنے اور تمسخر اڑانے کے لوگوں کو اسلامی اکانومی کے بارے میں معلومات فراہم کرنی چاہیے اور انہیں سمجھانا چاہئے کہ ان کی بقا اس نظام کے رائج کرنے سے ہی مشروط ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں