تبدیلی اور بدقسمت پاکستان 89

تبدیلی اور بدقسمت پاکستان

تحریر سید علی حسنین بخاری

12 فروری 1967 ء ایک سرد اور کہر آلود صبح کا ذکر ہے کراچی کی بندرگاہ کے ایک حصے میں جو ویسٹ وہارف کہلاتی ہے، حکومت کے کچھ معززین جن میں سے زیادہ تر تھری پیس سوٹ زیب تن کیے ہوئے محو گفتگو ہیں، لیکن ان کی نگاہیں سمندر پر مرکوز ہیں۔ یہ افراد مغربی پاکستان روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے اعلیٰ عہدے دار ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ پاکستان جو اس وقت چار صوبوں پر مشتمل ہے، اس کے چاروں صوبوں کو ایک اکائی میں ضم کر کے اکتوبر 1955 ء میں ون یونٹ بنا کر مغربی پاکستان کا نام دے دیا گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب آج کا بنگلہ دیش بھی پاکستان کا حصہ تھا اور اس کو مشرقی پاکستان کا نام دے دیا گیا تھا۔ 70 ء کی دہائی تک پاکستان دو صوبوں پر مشتمل ایک ریاست تھی، ایک صوبہ مغربی پاکستان اور دوسرا صوبہ مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔

ہم ذکر کر رہے تھے 12 فروری کی کراچی کی صبح کا ویسٹ وہارف پر کھڑے ہوئے ان لوگوں نے دور سمندر میں ایک سیاہ نقطہ ابھرتے ہوئے دیکھا اور وہ جوں جوں قریب آتا گیا اس نے ایک دیوہیکل بحری جہاز کی شکل اختیار کرلی، ویسٹ وہارف کے پر سکون سمندر کے پانی میں تلاطم پیدا ہوا اور تھوڑی دیر میں وہ بحری جہاز بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا۔ جب بحری جہاز ذرا فاصلے پر تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے عرشے پر بڑے بڑے سرخ رنگ کے ڈبے رکھے ہوئے ہیں۔

جب جہاز قریب آیا یہ بڑے بڑے ڈبے غیر معمولی لمبی بسوں کی شکل اختیار کر گئے۔ اس سے پہلے کراچی کے باسیوں نے اتنی لمبی بسیں نہیں دیکھی تھیں۔ جہاز کے نیچے کھڑا ہوا عہدے داروں کا چھوٹا سا ہجوم ان بسوں کا استقبال کرنے اور انہیں وصول کرنے آیا تھا۔ یہ بسیں ان 621۔ بسوں کے بیڑے کا حصہ تھیں جو سویڈش حکومت نے کراچی کی شہری حکومت کو بطور تحفہ دی تھیں۔ یہ بسیں برانڈ نیو تو نہیں تھیں اور کافی عرصے تک اسٹاک ہوم کی سڑکوں پر چلتی رہی تھیں لیکن بہترین کنڈیشن میں تھیں۔

کراچی پہنچنے والی ان 102 بسوں کے بعد مزید 519 بسیں بھی جون 1968 تک کراچی پہنچا دی گئیں۔ یہ ”بسیں“ جن میں سے ہر ایک بس میں 80 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، خاصی آرام دہ تھیں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 1967 میں سویڈن میں ٹریفک کا نظام تبدیل کر دیا گیا تھا۔ نئے ڈرائیو سسٹم کے مطابق ”رائٹ ہینڈ ڈرائیو“ کی جگہ ”لیفٹ ہینڈ ڈرائیو“ سسٹم رائج کر دیا گیا، جس کی وجہ سے یہ بسیں وہاں کی شاہراہوں پر مزید نہیں چل سکتی تھیں۔

آپ نے ”ڈی۔ ڈے D ’DAY“ کے بارے میں تو سنا ہو گا، لیکن شاید ”ڈیگن۔ ایچ Dagen H“ کے بارے میں کبھی نہ سنا ہو۔ سویڈیشن زبان میں Dagen کا لفظ Day یعنی دن کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہاں ایچ سویڈیشن زبان کے مطابق Right Hand Traffic Diverrien کے لئے استعمال ہوا ہے۔ 3 ستمبر 1967 ء اتوار کے دن سویڈن میں ٹریفک کا نظام رائیٹ ہینڈ ڈرائیو سے لیفٹ ہینڈ ڈرائیو کر دیا گیا۔ یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ پورے ملک کا ٹریفک کا نظام تباہی کا شکار بھی ہو سکتا تھا۔

رائیٹ ہینڈ ڈرائیو کا نظام جو ہمارے پاکستان میں بھی رائج ہے جس کے تحت گاڑی میں ڈرائیور کی سیٹ اور اسٹیئرنگ گاڑی کے اندر سیدھے ہاتھ پر نصب ہوتا ہے اور گاڑی سڑک کے بائیں جانب رکھ کر چلائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں قدیم روم میں گھوڑا گاڑیاں اور رتھ شاہراہوں اور گلیوں میں اسی اصول کے تحت چلائی جاتیں تھیں تاکہ سوار کا سیدھا ہاتھ فارغ رہے اور وہ اس کو سلام کرنے کے لیے استعمال کرسکے یا وقت پڑنے پر سیدھے ہاتھ سے تلوار کا استعمال کرسکے۔

ٹریفک کی روانی کے اس اصول کو سب سے پہلے برطانیہ میں لندن برج ایکٹ 1765 ء کے تحت قانونی شکل دی گئی۔ سویڈن اس تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چالیس کی دہائی سے کام کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں 1955 ء میں ایک ملک گیر ریفرنڈم بھی کرایا گیا تھا جس میں ملک کی 83 فیصد آبادی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ تاہم 1963 ء کے وسط میں سویڈن کی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت نے اس تبدیلی کے حق میں ووٹ ڈالا اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ تھی کہ سویڈن کے ارد گرد کے تمام ممالک میں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو سسٹم رائج تھا اور برطانیہ کے علاوہ سویڈن یورپ کا واحد ملک تھا جہاں رائیٹ ہینڈ ڈرائیو سسٹم تھا۔

پورے ملک کے ٹریفک نظام کو تبدیل کرنا مالی طور پر ایک بہت مہنگا اور پیچیدہ معاملہ تھا۔ جس میں سڑکوں پر نصب تمام ٹریفک ہدایات کے بورڈ اور سگنل تبدیل کرنا، تمام چوراہوں کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنا، سا رے ملک میں موجود عوامی ٹرانسپورٹ جس میں بسیں، ٹرامیں اور شہروں میں چلنے والی ریل گاڑیاں شامل ہیں۔ رائیٹ ہینڈ ڈرائیو سے لیفٹ ہینڈ ڈرائیو کرنا تمام بس اسٹاپ کے مقامات تبدیل کرنا شامل تھا۔ اس سلسلے میں سویڈن کی حکومت نے عوام کو اس تبدیلی کو سمجھنے، قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی تربیت دینے کے لیے ایک بہت بڑی عوامی رابطہ اشتہاری مہم چلائی اس مہم کا نام بھی ”ڈیگن۔ ایچ“ ہی رکھا گیا۔ اس کا اپنا لوگو بنایا گیا۔ جو دودھ کے ڈبوں سے لے کر انڈر ویئر تک ہر قسم کی مصنوعات پر پرنٹ کیا گیا۔

اس مہم کا ایک ترانہ بھی بنایا گیا جو ہمہ وقت ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشر ہوتا رہا تھا۔ آخرکار تمام تیاریاں مکمل ہو گئیں اور تین ستمبر 1967 ء کی صبح چار بجے سویڈن کے چھوٹے بڑے شہروں کے مرکزی مقامات پر مختلف لوگ جمع ہو گئے اور سڑکوں پر تمام ٹریفک روک دیا گیا۔ اور پھر بہت احتیاط کے ساتھ تمام ٹریفک کا رخ سڑک کی بائیں جانب سے دائیں جانب کی طرف کر دیا گیا۔ جیسے ہی گھڑیوں نے پانچ بجنے کا اشارہ دیا ریڈیو پر اعلان کر دیا گیا کہ ”اب سویڈن میں ٹریفک دائیں ہاتھ پر چلے گا“ اور پھر سویڈن کی سڑکوں پر ٹریفک نئے نظام کے تحت رواں دواں ہو گیا۔

اس وقت کے سویڈن کے وزیر مواصلات اولف پالمے نے کہا کہ ”یہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے کے منصوبے کے دوران ہمارے ذہنوں میں بے انتہا خدشات تھے۔ لیکن یہ بنیادی تبدیلی ملک میں ایک محفوظ ٹریفک کے نظام کے لیے ضروری تھی۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ سویڈن سے پہلے کسی ملک نے اپنے ٹریفک کے نظام کو بین الاقومی نظام سے مربوط کرنے کے لیے اتنی بھاری سرمایہ کاری نہیں کی ہوگی۔ اولف پالمے اس کے بعد دو مرتبہ سویڈن کے وزیراعظم منتخب ہوئے، بدقسمتی سے اپنی دوسری وزارت عظمی کے دور میں 28 فروری 1986 ء کو وہ اپنی بیوی کے ساتھ سینما میں فلم دیکھ کر پیدل گھر واپس جا رہے تھے کہ راستہ میں قتل کر دیے گئے۔ افسوس پاکستان کے عوام کی قسمت میں نہ تبدیلی ہے نہ سائیکل پر دفتر جاتا وزیراعظم۔

کراچی پہنچنے والی سرخ رنگ کی غیر معمولی طور پر لمبی بس کراچی کے شہریوں کے لئے ایک انوکھی شے تھی کیونکہ اس سے پہلے کراچی میں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے تحت سبز رنگ کی نسبتاً چھوٹے سائز کی بسیں جن میں زیادہ سے زیادہ 35 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی تھی، کراچی کی سڑکوں پر چلا کرتی تھیں۔ بد قسمتی سے کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کا پورا نظام اس وقت آخری سانسیں لے رہا تھا سویڈن سے آنے وا لی ہر ایک بس میں 80 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، نشستیں خاصی آرام دہ تھیں۔

ریجنل اتھارٹی نے کچھ بسیں ”کراچی یونیورسٹی“ کے لیے بھی مختص کردی تھیں۔ ان بسوں کے دروازے خود کار نظام کے تحت بند ہوتے تھے، جس کے بعد ہی یہ چلتی تھیں اور اگر کوئی سیڑھی پر کھڑا ہو تو دروازہ بند نہیں ہوتا تھا۔ جب کہ پوری بس کے شیشے جامد تھے، مگر چند ہی ماہ میں ہم انھیں اپنی ڈگر پر لے آئے، دروازے بند ہونا ”بند“ ہو گئے یعنی کہ وہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور جامد شیشے توڑ دیے گئے۔ افسوس کہ ”ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کراچی“ ان بیش قیمت بسوں کی مرمت اور دیکھ بھال کا خاطر خواہ انتظام نہیں کر سکی، جس کے نتیجے میں بہت جلد یہ ہمارے شہر کی شاہراہوں سے غائب ہو کر کباڑ خانے کی زینت بن گئیں۔ کچھ لوگ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان بسوں کی نشستوں کو اکھاڑ کر انہیں باقاعدہ گھریلو فرنیچر کے طور پر معمولی سی آرائش کر کے شہر کے ”بازاروں“ میں فروخت بھی کیا گیا۔

شاہ بکتے ہیں
فقیر بکتے ہیں
یہاں صغیر اور کبیر بکتے ہیں!
کچھ سرعام، کچھ پس دیوار بکتے ہیں!
اس شہر میں ضمیر بکتے ہیں!
یہاں تہذیب بکتی ہے!
یہاں فرمان بکتے ہیں!
ذرا تم ”دام“ تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں