تاجرپرجھوٹ کا مقدمہ درج کرنے پرتفتیشی افسر کو فوری معطل کرنے کا حکم 42

تاجرپرجھوٹ کا مقدمہ درج کرنے پرتفتیشی افسر کو فوری معطل کرنے کا حکم

عدالت نے تاجر پر جھوٹ کا مقدمہ درج کرنے والے تفتیشی افسر کو فوری معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران 22کروڑ روپے سالانہ ٹیکس ادا کرنیوالے تاجر کے خلاف موبائل چھیننے کے مقدمے میں کراچی سے خیرپور جا کر ڈکیتی کے الزام پرعدالت نے حیرت کا اظہارکرتے ہوئے تفتیشی افسر سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ بنانے کے لیے کتنے پیسے لیے ہیں۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ کیا خدا کے پاس نہیں جانا؟ کیا قبریاد نہیں رہتی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کلمہ پڑھ کرکہتا ہوں کہ ایک پیسا بھی نہیں لیا جس پر عدالت نے کہا کہ ہمیں کلمہ پڑھ کرمتاثر کرنے کی کوشش نا کریں۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ سول جج رہا ہوں ہر پولیس اہلکار کلمہ پڑھ کر جھوٹی گواہی دیتا تھا۔ ڈکیتی کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات کس قانون کے تحت شامل کیں۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ ڈکیتی ہائی وے کے قریب ہوئی اس لیے دہشتگردی کے الزامات شامل کیے گئے۔ پرائیویٹ شہری کی شکایت پر مقدمہ درج کیا، ابھی تک نہیں پتہ ملزم کہاں ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ انسداددہشت گردی ایکٹ لیں اور بتائیں کس شق کے تحت ہائی وے پر رہزنی دہشتگردی ہے؟ کس کے لیے کام کرتے ہو؟ خدا کو جواب دینا ہے یا ان آدمیوں کو۔

سندھ ہائی کورٹ نے تاجر پرجھوٹا مقدمہ درج کرنے پر تفتیشی افسر کو فوری معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے فوکل پرسن کو ہدایت کی ہے کہ اس تفتیشی افسر کو ایک گھنٹے میں معطل کرکے رپورٹ دیں۔

خواجہ شمس الاسلام ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ پولیس وزیراعلی مراد علی شاہ اورانورمجید کے ماتحت کام کررہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اتنی بڑی وردی ہے، اتنے پھول لگے ہیں، پھر بھی قوم کا اعتماد پامال کررہے ہو۔

وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ تاجرریاض شہزاد کے خلاف کاروباری رقابت پر مسلسل مقدمات بنائے جارہے ہیں۔ ایک مقدمے میں ضمانت ہوتی ہے تو اسی الزام میں کہیں اور دوسرا مقدمہ بنادیتے ہیں۔ چار مقدمات میں ضمانت ہوچکی، جمعتہ الوداع کو سانگھڑ میں نوکیا موبائل چھیننے کا مقدمہ درج کرادیا۔

وکیل ملزم نے کہا کہ ریاض شہزاد کو سزا دینے کے لیے ایک کروڑ روپے فیس دے کروکیل کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ بہت بہادر تفتیشی افسر ہے جو جیل کے دروازے پر گرفتاری کےلیے بیٹھا رہتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ تفتیش کسی دوسرے افسر کو دے کر اس کیس کی رپورٹ 9جون کو پیش کی جائے۔ گودام میں موجود ٹریکٹرز کو عدالت کی اجازت کے بغیر کہیں منتقل نہ کیا جائے اور نہ ہی ریاض شہزاد کے اہل خانہ اور ملازمین کو ہراساں کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں