73

بے بس ارب پتی: تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

دولت اقتدار شہرت کسی بھی نارمل انسان کو فرعون بنا دیتی ہے دنیا بھر میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس کے پاس بے پناہ دولت ہے اُس کے پاس وہ کلیدِ اعظم ہے جو ہر مسئلے کی کنجی ہے دولت کے بل بوتے پر ہر مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے جب اللہ کی رسی دراز ہوتی ہے

تو یہ دولت مند لوگ اپنی دولت کے بل بوتے پر حکمرانی اور اپنی ہر خواش پوری کرتے نظر بھی آتے ہیں عام بندہ بھی یہی سمجھتا ہے کہ دنیا کے ہر مسئلے کی کنجی دولت ہے لہذا دولت کے حصول کے لیے وہ جائز نا جائز سارے لیول توڑ کر ختم نہ ہو نے والی ہوس پر اندھا دھند دوڑنا شروع کر دیتا ہے جس کا اختتام کہیں بھی نہیں ہے جب سے میں نے روحانی خدمت خلق کے مشن میں قدم رکھا ہے تو میرے پاس زندگی کے ہر شعبے سے لوگ روحانی مشاورت کے لیے آتے ہیں جب کوئی بڑا آفیسر یا دولت مند آتا ہے تو ملنے والے بہت سارے لوگوں کے دماغوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ تو آفیسر تو اقتدار کے جھولے لے رہا ہے اِس کو کو نسا مسئلہ پریشانی ہے یہ دولت مند توکروڑوں کی گاڑی اور غلاموں کی فوج کے ساتھ آیا ہے اِس کو کس پریشانی نے یہاں لا پھینکا ہے عام انسان یہی سمجھتا ہے کہ پریشانیاں صرف دولت کی کمی کی وجہ سے ہیں ۔دولت کی دیوی جس گھر یا خاندا ن پر مہربان ہو تی ہے وہاں پھر پریشانیاں یا مشکلات نہیں رہتیں لیکن یہ عام لوگوں کی بہت بڑی غلط فہمی ہوتی ہے کہ دولت ہی ہر مسئلے پریشانی کی کنجی ہے میں نے پچھلے پچیس سالوں میں انسانوں کے عروج و زوال پریشانیوں اور خوشیوں کا جو مشاہدہ کیا ہے وہاں پر جو واضح حقیقت سامنے آئی وہ حیران کن تھی کہ دولت مند صاحب اقتدار شہرت کے آسمان پر چمکنے والوں کو میں نے زیادہ پریشان اور خواب آور گولیاں کھاتے دیکھا روحانی آستانوں بابوں مزاروںنجومیوں کے پاس میں نے دولت مندوں کو زیادہ منڈلاتے دیکھا ہے یہ دولت مند اقتدار پر قابض لوگ زیادہ انجانے خوفوں کا شکار نظر آتے ہیں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو پر سکون شاندار زندگی گزارتے ہوئے دیکھا ہے بلکہ سب سے زیادہ پر سکون خوش ان لوگوں کودیکھا ہے جو اہل تصوف والی صحبت میں پائے جاتے ہیں یا جو حق تعالیٰ کے قریب تھے دولت مندوں کو تو پریشان ہی دیکھا ایسا ہی ایک ارب پتی سیٹھ پچھلے چند دنوں سے میرے پاس لگاتا رآرہا تھا جس کی اربوں کی دولت وسیع و عریض جائیداد بنگلے کوٹھیاں فارم ہائوس بنک اکائونٹ نوکروں کی فوج اُس کو خوشی دینے میںبری طرح ناکام تھی جو پچھلے کئی سالوں سے پر سکون نیند سے کوسوں دور تھا جس کے لیے دنیا بھر کے ذائقے بد ذائقہ ہو گئے تھے مہنگی ترین گاڑیاں اُس کو خوشی نہیں دیتی تھیں بینکوں میں پڑی پناہ دولت اُس کے آرام کا سبب نہیں تھی جو دولت شہرت غلاموں کی فوج پاکستان کے ہر بڑے شہر میں محل نما گھروں میں بھی سکون نہیں پارہا تھا جو حقیقی خوشی کے لیے ترس رہا تھا اپنی ساری زندگی جس سلطنت کو کھڑا کرنے میں جائز ناجائز اصولوں کو توڑا وہ اُس کی نظروں کے سامنے پانی کے بلبلوں میں تبدیل ہو رہی تھی ناکامی کی امر بیل اُس کی ہڈیوں کو چاٹ رہی تھی انسان طاقت دولت کے نشے میں ہر چیز کو خریدتا ہے لیکن جب دولت شہرت اقتدار فیل ہو جائیں تو پھر ایسے ارب پتی لوگ روحانی لوگوں کی طرف رجوع کرتے ہیں یہ انسانی فطرت بھی ہے کہ وہ خدا مسجد مندر گھر دروازے گرجے یا مذہبی کتابوں کی طرف اُس وقت آتا ہے جب پریشان ہو تا ہے دولت کے انبار کھڑے کرتے ہوئے کامیابیوں کی سیڑھیاں اور پریشانیوں میںمذہبی ہوتے دیکھا ہے اِسی طرح میرے پاس یہ ارب پتی آرہا تھا جب سے میرے پاس آرہا تھا اپنی دولت سے مجھے لگاتار مرعوب کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا قیمتی تحائف مٹھائی فروٹ کے ٹوکروں کے ساتھ آتا پھر مختلف قسم کی پر کشش آفریں کر تا ۔میں فقیر اِس کی پریشانی اور فطرت کو دیکھ کر حیران ہو تا میرے پاس آنے کی وجہ یہ تھی کہ اکلوتا بیٹا جس کی تیسری شادی تھی لیکن دنیا جہاں کے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں میں دھکے کھانے کے بعد ابھی تک صاحب اولاد نہیں ہوا تھا میںنے سن کر سوال کیا کہ کیا آپ کا بیٹا بانجھ ہے جو اولاد نہیں ہو رہی تو صاحب بولے جی نہیں تینوں بیگمات حاملہ ہوئیں لیکن پتہ نہیں کوئی بد دعا ہے یا کیا ہے کہ جیسے ہی بیگم حاملہ ہو تی ہے تیسرے مہینے تک بچہ ضائع ہو جاتا ہے شروع میں تو ہم نے عام بیماری سمجھ کر عام ڈاکٹروں سے علاج کروایا لیکن جب بار بار یہ حادثہ ہونے لگا تو عورت میں نقص ڈال کر بیٹے کی دوسری شادی کر دی لیکن جب دوسری کے ساتھ بھی وہی حادثہ کہ تیسرے مہینے تک ہی بچہ ضائع تو دولت کے بل بوتے پر تیسری شادی کر دی لیکن ڈاکٹروں نے سر پکڑ لیا جب تیسری بیوی میں بھی وہی مسئلہ سامنے آگیا تو ڈاکٹروں نے پہلی بار ہمیں جرمنی بھیجا کہ وہاں جا کر اپنے بیٹے کے مخصوص ٹیسٹ کروائیں پھر ہم جرمنی امریکہ کروڑوں روپے لگا کر اِس نتیجے پر پہنچے کہ میرے بیٹے میں پروٹین کا بیلنس خراب ہے جس وجہ سے بچے کی گروتھ نہیں ہوتی اور بچہ نو ماہ سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے اب ڈاکڑوں نے علاج کر دیا کہ جو بیماری یا کمی آپ کے بیٹے میں ہے اِس کا ابھی تک میڈیکل سائنس پوری دنیا میں کوئی علاج نہیں جب ڈاکٹروں نے انکار کیا تو بابوں کے پاس چکر لگاتے ہوئے یہ ارب پتی صاحب میرے پاس آگئے یہ کیس چکرا دینے والا تھا جس نے میرے دماغ کو بھی نچوڑ کر رکھ دیا ایک دن میں نے بوڑھے ارب پتی سے پوچھا آپ نے کوئی گناہ بہت بڑا تو نہیں کیا تو قدرت آپ سے ناراض ہے اگر آپ معافی مانگ لیں تو شاید قدرت مہربان ہو جائے پہلے تو صاحب نے انکار کر دیا کہ نہیں میں نے کوئی بڑا گناہ نہیں کیا لیکن چند دن بعد میرے پاس آکر اقرار کیا کہ میں نے دولت کی ہوس میں بہت سارے گناہ ظلم کئے ہیں میرا والد بہت امیر تھا ہم دو بھائی تھے میں نے بھائی کو نشے پر لگا دیا ساری دولت میرے نام ہو جائے بھائی نشے میں ہی خود کشی کر گیا پھر بہنوں کا بھی حق مار گیا شادی ہوئی تو پتہ چلا میں بانجھ ہو ں تو ایک لے پالک بچہ لے کر پالا لیکن لوگوں کو یہی بتایا کہ یہ میری اولاد ہے میں ساری زندگی دولت کی ہوس اور ارب پتی بننے کے لیے لوگوں پر ظلم کر تا رہا دولت سے بیٹا خرید کر بڑا بھی کر لیا لیکن خدا نے مجھے آخری عمر میں یہ سزا دی ہے کہ میں ساری دولت لگا کر اپنی نسل کو آگے نہیں بڑھا سکتا اب چند سالوں بعد یہ ساری دولت لوگ کھائیں گے وہ مجبور بے بس ارب پتی ہوں کہ ایک مزدور اپنی نسل کو دیکھ کر سرشار ہو جاتا ہے جبکہ میں بے بسی پریشانی کے سمندر میںغوطے کھاتا ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں