64

’بیمار‘ سمندر ہمیں صحت مند کیسے رکھ سکیں گے؟

اسلام آباد(ہاٹ لائن نیوز )آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن منایا
جا رہا ہے، زمین کے 70 فیصد حصے پر ہونے کی وجہ سے ہمارے سمندر، جنگلات سے کہیں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔سمندروں کا عالمی دن منانے کی تجویز سنہ 1992 میں دی گئی تھی اور تب سے اسے مختلف ممالک میں انفرادی طور پر منایا جارہا تھا تاہم 2008 میں اقوام متحدہ نے اس دن کی منظوری دی جس کے بعد سے اس دن کو باقاعدہ طور پر پوری دنیا میں منایا جانے لگا۔اس دن کو منانے کا مقصد انسانی زندگی میں سمندروں کی اہمیت، آبی جانوروں کے تحفظ اور سمندری آلودگی میں کمی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔انسانی زندگی اور زمین کی بقا کے لیے ضروری سمندر پلاسٹک کی تباہ کن آلودگی سے اٹ چکے ہیں۔نیدر لینڈز کے ماحولیاتی ادارے گرین پیس کے مطابق دنیا بھر میں 26 کروڑ ٹن پلاسٹک پیدا کیا جاتا ہے جس میں سے 10 فیصد ہمارے سمندروں میں چلا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق سنہ 2050 تک ہمارے سمندروں میں آبی حیات سے زیادہ پلاسٹک موجود ہوگی، پلاسٹک سمندروں میں موجود آبی حیات کی بقا کے لیے سخت خطرات کا باعث بن رہی ہے۔زیادہ تر جاندار پلاسٹک کو غذائی اشیا سمجھ کر نگل جاتے ہیں جو ان کے جسم میں ہی رہ جاتا ہے نتیجتاً ان کا جسم پلاسٹک سے بھرنے لگتا ہے اور یہ جاندار بھوک کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری زمین پر پیدا ہونے والی کاربن کو جنگلات سے زیادہ سمندر جذب کرتے ہیں کیونکہ یہ تعداد اور مقدار میں جنگلات سے کیں زیادہ ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق سنہ 1994 سے 2007 کے دوران سمندروں نے 34 گیگا ٹن کاربن جذب کیا۔سنہ 2016 میں پیش کی گئی دہائیوں کی تحقیق کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ یعنی گلوبل وارمنگ سمندروں کو بیمار بنا رہا ہے جس سے سمندری جاندار اور سمندر کے قریب رہنے والے انسان بھی بیمار ہو رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا تھا کہ سمندر ہماری کائنات کی طویل المعری اور پائیداری کا سبب ہیں، سمندروں کو پہنچنے والے نقصان سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج کے خطرات میں کمی کرنا اور آلودگی کم کرنے سے ہی ہم اپنے سمندروں کو بچا سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں