51

بھارت، کانگریس رہنما نوجوت سدھو کو 34 سال پرانے مقدمے میں 1 سال قید کی سزا

بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما، شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیت اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو 1988ء میں سڑک پر ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں ایک سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

مقدمے میں لگائے گئے الزامات 27 دسمبر 1988ء کو ہونے والے واقعے سے متعلق تھے جن میں کہا گیا تھا کہ کار پارکنگ کے مسئلے پر ہونے والے جھگڑے میں نوجوت سدھو کی وجہ سے گرنام سنگھ نامی ایک شخص کے سر پر چوٹ لگی تھی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کر لیا ہے۔ پنجاب کانگریس کے سابق سربراہ کو مجرمانہ قتل کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا تاہم انہیں زخمی کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے اسی کیس میں نوٹس کے دائرہ کار کو بڑھانے کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ درخواست ایک نظرثانی شدہ جاری پٹیشن کے تحت دی گئی تھی۔ نوجوت سنگھ سدھو نے مقدمے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ان کے خلاف کیس کو بڑھاوا دینا ہے جبکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔

22 ستمبر 1999ء کو پٹیالہ کے ایک سیشن جج نے سدھو کو بری کر دیا تھا اور کہا تھا کہ شواہد نامکمل ہیں اور ان کو شک کا فائدہ دیا گیا تھا تاہم اس کے بعد واقعے کے متاثرہ شخص کے خاندان نے عدالتی حکم کو چیلنج کر دیا تھا اور معاملے کو پنجاب اور ہریانہ کی ہائی کورٹ میں لے گئے تھے۔

بعد ازاں 2006ء میں عدالت نے نوجوت سنگھ سدھو کو تین سال کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف اُنہوں نے اپیل کی تھی اور اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں