بچوں سے متعلق بڑا عدالتی فیصلہ آگیا

0
93

ہاٹ لائن نیوز : لاہور ہائیکورٹ میں کم عمر ڈرائیورز کا کریمنل ریکارڈ بنانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی ۔

عدالتی حکم پر سی ٹی او لاہور اور ایس پی سی آر او عدالت میں پیش ہوئے ۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے حکم دیا کہ ایس ایچ او شخصی ضمانت پر کم عمر بچوں کو رہا کریں ، جسٹس علی ضیا باجوہ کا ڈرائیونگ کرنے والے کم عمر بچوں کو رہا کرنے سے متعلق ایس ایچ اوز کو احکامات جاری کردئیے ۔

عدالت نےڈرائیونگ کرنیوالے کم عمر بچوں کوعدالتوں میں پیش کرنےسے روک دیا ۔

ایس پی سی آر او نے بیان دیا کہ کم سن بچوں کا کریمنل ریکارڈ بن رہا ہے، ہمارا سسٹم ایف آئی آر درج سے لیکر اخراج تک مکمل کمپیوٹرائز ہے ۔

عدالت نے کہا کہ آپ کے ڈی آئی جی، آئی ٹی نے کہا تھا کہ کم سن بچوں کا ریکارڈ ان لائن نہیں ہوگا ، عدالتی حکم کے بعد لائسنس بنوانے والوں کی کیا تعداد رہی ؟

چیف ٹریفک پولیس آفیسر نے بتایا کہ 14 لاکھ کے زائد لرنل لائیسنس بن چکے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق کم سن ڈرائیورز کے خلاف 7032 ایف آئی آرز ہو چکی ہیں، ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانےوالوں 9035افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ، 16387 ٹوٹل ایف آئی آرزاس حوالےسے درج ہوئی ہیں ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایس ایچ او کے پاس اختیار ہے کہ وہ قابل ضمانت جرائم پر ضمانت لے سکے؟

سی ٹی او نے عدالت میں بتایا کہ جی ، ایس ایچ او کے پاس یہ اختیار ہے،

عدالت نے کہا کہ اگر تھانوں میں گاڑیوں کی جگہ ختم ہو گئی ہے، تو آپریشن تو نہیں رک سکتا،

سی ٹی او نے بتایا کہ دو تھانوں کے پولیس والوں کے خلاف بھی ایف آئی آرز ہوئی ہیں ۔

عدالت نے کہا کہ سی ٹی آو صاحب، آپ اسے ایک مثالی کیس بنائیں ، کسی کو بھی معافی نہیں ملنی چاہیے، سوشل میڈیا پر یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ پولیس والے اس حوالےسےلوگوں کیساتھ زیادتی کررہے ہیں، اس معاملےپربھی نظر رکھیں، یہ بھی سامنےآیا ہےکہ آپ نےلائیسنس کی فیس بڑھادی ہے ۔

ایس پی سی آر او نے بتایا کہ جو ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں، اس میں کریمنل ریکارڈ ہو رہا ہے ۔

عدالت نے حکم دیا کہ پولیس کے خلاف اگر مزید شکایات آتی ہیں تو اس پر بھی ایکشن لیں ۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ جن اسکول کے بچوں کو گرفتار کیا جاتا ہے انہیں یونیفارم میں ہی حوالات میں ڈال دیا جاتا ہے،

عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ، رانا سکندر ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے ۔

درخواست گزار نے عدالت میں بتایا کہ پولیس کم عمر بچوں کا نام کریمنل ریکارڈ میں شامل کر رہی ہے، چیف ٹریفک آفیسر نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ کم عمر ڈرائیورز کا نام کریمنل ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جائے گا، سی ٹی او عدالت میں یقین دہانی کے باوجود بچوں کے نام سی آر او میں شامل کیے جا رہے ہیں، بچوں کے ابھی شناختی کارڈز بنے نہیں لیکن کریمنل ریکارڈ بنا رہا ہے، رکم عمر ڈرائیورز کے نام کو کریمنل ریکارڈ میں شامل نہ کیا جائے ۔

Leave a reply