بوڑھا ہونے کے عمل کو سست کردینے والی عادت

1
95

آگسٹا: ( ہاٹ لائن نیوز) حالیہ ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ رات کی بہتر نیند حیاتیاتی طور پر عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر دیتی ہے۔

امریکہ کی ریاست جورجیا میں قائم آگسٹا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے مطالعے کیلئے اوسطاً 50 عمر کے 6052 افراد کے نیند کے ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افراد جو اپنی نیند کے طرز پر باقاعدگی سے عمل کرتے ہیں ان کی حیاتیاتی عمر کم تھی۔ البتہ ایسے افراد جو کہ باقاعدگی سے نیند نہیں لیتے ان کا ایسا کرنا ان کی بدتر صحت سے تعلق رکھتا تھا۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حیاتیاتی عمر انسان کی اچھی صحت اور قبل از وقت موت کے خطرات کے اشاریے کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ البتہ یہاں یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ نیند کس طرح حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتی ہے۔

تحقیق میں شامل افراد چار سے سات دنوں تک نیند کے ٹریکر پہن کر سوئے، جس کی وجہ سے ان کی نیند کے دورانیے، بے قاعدگی اور سونے کے وقت کی تبدیلی کے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ اس مطالعے میں شرکاء کے چھٹی کے دنوں اور ہفتے کے باقی دنوں کی نیند میں فرق بھی دیکھا گیا۔

محققین نے شرکاء کے خون کے نمونوں کا گردے کی تکلیف ،جگر کے مرض، بلند فشارِ خوں ، کولیسٹرول اور ذیابیطس کی علامات کیلئے تجزیہ کیا تاکہ حیاتیاتی عمر کا تعین بھی ہوسکے۔

جرنل سلیپ ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً دو تہائی افراد ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی نیند لیتے تھے جبکہ 16 فیصد افراد سات گھنٹے سے کم اور 19 فیصد افراد 9 گھنٹے سے زیادہ کی نیند لیتے تھے۔

جبکہ اوسطاً شرکاء کے نیند کے اوقات میں ہر رات 60 منٹوں کی تبدیلی دیکھی گئی ہے جبکہ چھٹی کے دن وہ 78 منٹوں زیادہ سوسکے۔

1 comment

Leave a reply