الیکشن اور نیب ترمیمی بل منظوری کے لئے ایک بار پھر ایوان صدر کو موصول 42

الیکشن اور نیب ترمیمی بل منظوری کے لئے ایک بار پھر ایوان صدر کو موصول

قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد الیکشن ترامیم اور نیب ترامیم کے بل ایک بار پھر ایوان صدر کو مصول ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد دونوں بل صدر مملکت کو حتمی منظوری کے لئے بھجوائے گئے جس پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے دستخط کیے بغیر ہی واپس کردیئے۔

بعدازاں ان بلوں کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا جہاں پر صدر کی تجاویز کو رد کرتے ہوئے دونوں بلوں کو مشترکہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد الیکشن اور نیب ترامیم بل ایک بار پھر صدر مملکت کو منظوری کے لئے بھجوائے گئے ہیں جو کہ ایوان صدر کو موصول ہوگئے ہیں۔

صدر نے دونوں بلز پر دس دن تک دستخط نہ کیے تو دونوں بلز از خود قانون بن جائیں گے اور دس دن کی مدت سترہ جون کو مکمل ہوجانے گی۔

خیال رہے کہ الیکشن ترمیمی بل سے سمندر پار پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم ہوجانے گا جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال نہیں ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں