چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ 49

اسلام آباد ہائیکورٹ کا مسجد نبوی کے واقعے پر اندراج مقدمہ نہ کرنے کا حکم

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے مسجد نبوی کے واقعے پر اندراج مقدمہ نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ مذہب کا سیاسی استعمال توہین مذہب ہے۔ سیاسی تنازعات کے لیے مذہب کا استعمال درست نہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے توہین مذہب کیسز کیخلاف فواد چوہدری کی درخواست پر کیس کی سماعت کی۔پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری عدالت میں پیش اورمؤقف بیان کیا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو توہین مذہب کے کیسز چلا رہی ہے۔

چئف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو عدالت پر اعتماد ہے جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ آپ پر اعتماد نہیں ہوگا تو پھر کس پر ہوگا۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مذہب کا سیاسی استعمال خود ایک طرح کی توہین مذہب ہے۔ مذہب کا استعمال دوہزار اٹھارہ میں بھی ہوا اس سے پہلے بھی ہوتا رہا۔ یہ سیاسی قیادت کا کام ہے وہ معاشرے برادشت کا رویہ پیدا کرے۔سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ مجھے ان تمام کیسز پر بہت حیرت ہوئی ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کی لاشوں پرچڑھ کر وزیرنہیں بننا ہوتا۔ وزیرداخلہ سے تو مجھے توقع نہیں تھی اچھے کی۔فواد چوہدری نے کہا کہ وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کیوں پڑھا لکھا کنویں میں ڈال دیا۔ جو رواج شروع کر دیا گیا ہے اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ مذہب کا ایسا استعمال ہونے پر یو کے پارلیمنٹ میں ان لوگوں کے ویزے واپس لینے کی بات ہو رہی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ مذہب کا استعمال پہلے مختلف گروہ کرتے تھے اس بار حکومت کر رہی ہے۔ حکومت کو عقل کرنی چاہیے۔عدالت نے کہا کہ سعودی عرب میں جو کچھ ہوا وہ بھی غلط ہے جو یہاں ہورہا ہے وہ بھی غلط ہے۔ فواد صاحب یہ معاملات سیاسی قیادت نے ہی ٹھیک کرنا ہوتے ہیں۔ بادی النظر میں جو کیسز درج ہو رہے ہیں وہ درست معلوم نہیں ہوتے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ اس پرکیسے آگے بڑھا جائے کیا راستہ ہے؟ ریاست کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ عدالت میں ایک ایسی ہی درخواست آئی تھی جو عدالت نے مسترد کی۔ مذہب کا سیاسی استعمال توہین مذہب ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ حقیقت ہے ماضی میں ریاست مذہب کے نام پر اس طرح کی حرکات کرچکی ہے، لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جاتی رہی ہیں۔سرکاری وکیل ایڈووکیٹ طیب شاہ نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہوئی لیکن اس پر تفتیش ہورہی ہے۔ اخراج مقدمہ کے لیے انہیں متعلقہ عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی مذہب کا غلط استعمال ہوا اور کئی معصوم جانیں گئیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارا مؤقف واضح ہے ہم مستعفی ہوچکے ہیں۔ عمران خان، قاسم سوری، شیخ رشید اور شہباز گل کے نام ایف آئی آر میں ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہرادارہ قابل احتساب ہے۔ آپ جب تک ڈی نوٹی فائی نہیں ہوتے تو عدالتی فیصلے کی روشنی میں آپ رکن اسمبلی ہیں.سابق وزیراطلاعات نے کہا کہ اس اصول کے تحت تو پھرعثمان بزدار ابھی تک وزیراعلی پنجاب ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کا مؤقف ہے مخالفین کیخلاف مذہب کا استعمال ہورہا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اس نوعیت کے کیسز تو کل امن و عامہ کا مسئلہ بن جاتے ہیں۔ ریاست کو اس نوعیت کے کیسز میں احتیاط برتنی چاہیے۔ایڈووکیٹ فیصلہ چوہدری نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں کوئی حکومت نہیں.

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ آئین پاکستان کی بہت بے توقیری ہو چکی ہے، آئین پاکستان ہی لوگوں کو اکٹھا رکھ سکتا ہے۔ ہم آئین کو سپریم نہیں سمجھتے ورنہ آج ملک میں یہ حالات نہ ہوتے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ادارے بھی اسی آئین کے تابع ہیں، سب کو آئین کی پاسداری کرنی چاہئے۔ آئین کے تحت ہر ادارہ جوابدہ ہے۔ مدینہ منورہ میں واقعہ ہوا، ریاست کا کام ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ مذہب کا غلط استعمال نہ ہو۔ ریاست کی ذمہ داری ہے وہ سیاست میں مذہب کا استعمال نہ کرے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مدینہ منورہ واقعہ کے بعد اسی روز قاسم سوری پربھی حملہ کیا گیا تھا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ ریاست نے دیکھنا ہے کہ کمپلینٹ کی نوعیت کیا ہے؟ مذہب کو سیاست میں استعمال نہیں کرنا چاہئے، ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔

سید طیب شاہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس متعلق وفاق سے ہدایات لے لیتا ہوں۔عدالت نے کہا کہ ریاست کو چاہئے کہ تمام سیاسی قیادت کو بٹھائے اور پالیسی بنائے کہ مذہب کو سیاست میں نہیں لانا۔ سیاسی تنازعات کے لیے مذہب کا استعمال درست نہیں۔ سیالکوٹ میں ایک غیر ملکی کو مارنے کا بدقسمت واقعہ ہوا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کیا ریاست نے اس واقعے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا؟ مشعال خان جیسے نوجوان کے ساتھ کیا ہوا؟ ریاست کو چاہیے وہ مؤثر اقدامات کرے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت دے دیں میں اگلی سماعت پرکچھ بتا سکتا ہوں۔ لوگ جذباتی ہیں خود ایف آئی آرز کروا دیتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وہ اتنے جذباتی ہیں کہ پورے ملک میں ایک جیسی ایف آئی آرکروا رہے۔ یہ طے ہونا چاہئے کہ سیاست میں مذہبی کارڈ استعمال نہیں کیا جائے گا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کریں کہ ایف آئی آرز واپس لے۔سید طیب شاہ نے کہا کہ لوگوں کے مذہبی جذبات ہے اوران کے مذہبی جذبات کو واقعہ سے ٹھیس پہنچی۔ مقدمہ درج کرانے کی درخواستیں پرائیویٹ پرسنز کی جانب سے جمع کرائی گئیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بتا دیں کہ مستقبل میں ایسے ایشوز کو کیسے ڈیل کیا جائے گا؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وزارت داخلہ کو تمام مقدمات کی تفصیل جمع کرانے کی ہدایت کی جائے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کوحکم دیا کہ مسجد نبوی واقعہ کی ایف آئی آرز درج نہ کرے۔ اندراج مقدمہ سے پہلے اس عدالت کو مطمئن کریں۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو وفاق سے ہدایت لے کرعدالت کی معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں